ایشیائی پیرا کھیل جوڈو: کوکیلا نے چاندی، کپل پرمار نے کانسہ کا تمغہ جیتا
ناگویا،
ایشیائی پیرا کھیل 2026 میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے جوڈو مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو تمغے اپنے نام کیے۔ ہندوستان کی نابینا جوڈو کھلاڑی کوکیلا نے خواتین کے جے 2، 52 کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیتا، جبکہ پیرس پیرالمپکس کے کانسہ کا تمغہ جیتنے والے کپل پرمار نے مردوں کے جے 1، 70 کلوگرام زمرے میں کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔کوکیلا کو سونے کے تمغے کے فائنل میں کرغزستان کی عالمی نمبر ایک کھلاڑی آئبیکے کیزی کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کرغزستان کی کھلاڑی نے محض 21 سیکنڈ میں اِپّون کے ذریعے مقابلہ جیت لیا۔ تاہم، فائنل تک رسائی حاصل کرکے کوکیلا نے ہندوستان کے لیے چاندی کا تمغہ یقینی بنادیا تھا۔
کوکیلا نے سیمی فائنل میں چین کی یی لیو کو 1-0 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ اس مقابلے میں ہندوستانی کھلاڑی نے ایک وازا اری اور ایک یوکو پوائنٹ حاصل کیا، جبکہ چینی کھلاڑی صرف ایک وازا اری پوائنٹ حاصل کرسکی۔ مقابلے

کے دوران کوکیلا کو معمولی ضابطہ شکنی پر ایک شیدو، یعنی جرمانہ بھی ملا۔ہریانہ کے جِند ضلع کے کسون گاؤں کی رہنے والی کوکیلا اس سے قبل ہانگژو میں منعقدہ گزشتہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں خواتین کے 48 کلوگرام زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیت چکی ہیں۔ انہوں نے پیرس پیرالمپکس 2024 میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کی تھی۔ جے 2 زمرے میں مختلف سطح کی بصارت سے محرومی کا شکار کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔
دوسری جانب، کپل پرمار نے مردوں کے جے 1، 70 کلوگرام زمرے کے کانسہ کے تمغے کے مقابلے میں انڈونیشیا کے اہناف رافلی شدقی کو شکست دی۔ ہندوستانی کھلاڑی نے اِپّون کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ یہ مقابلہ تقریباً 69 سیکنڈ میں ختم ہوگیا۔
کپل کو سیمی فائنل میں انڈونیشیا کے جونیدی کے خلاف 0-1 سے شکست ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں کانسہ کے تمغے کے لیے مقابلے میں اترنا پڑا۔ تاہم، انہوں نے سیمی فائنل کی شکست سے سنبھلتے ہوئے فیصلہ کن مقابلے میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور تمغہ اپنے نام کرلیا۔کپل نے گزشتہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس بار کانسہ کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ سونے کاتمغہ جیتنے کے ارادے سے یہاں آئے تھے، لیکن انہیں کانسہ پر اکتفا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، سونے کے تمغے کے معاملے میں اس دن قسمت نے ساتھ نہیں دیا، تاہم وہ کانسہ کا تمغہ جیتنے پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے لیے انہوں نے سخت محنت کی ہے اور طویل عرصے بعد یہ ان کا پہلا تمغہ ہے۔کپل نے جذباتی انداز میں اپنی والدہ کی خراب صحت کا بھی ذکر کیا، جو گزشتہ کچھ عرصے سے بیمار ہیں۔ جے 1 زمرے میں مکمل نابینا پن سے لے کر صرف روشنی کا معمولی احساس کرسکنے والے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔کوکیلا کا چاندی اور کپل پرمار کا کانسہ کا تمغہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں ہندوستان کی مہم کے لیے اہم کامیابی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے مشکلات کے باوجود عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کیا۔




