جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن مدھیہ پردیش کی نئی شناخت

بھوپال، جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کے شعبے میں مدھیہ پردیش نے نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ کبھی معدوم ہو چیتوں کی ہندوستان واپسی اور جنگلات میں جنگلی بھینسوں کی بازآبادکاری ریاست میں جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک نئی داستان رقم کر رہی ہے۔ ریاست میں شیروں کے تحفظ اور گھڑیالوں و کچھوؤں کو دریاؤں میں چھوڑنے جیسے اقدامات کے ذریعے حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کیا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش میں جنگلات کا رقبہ 77,073 مربع کلومیٹر ہے، جو ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ریاست کے تقریباً ایک تہائی جغرافیائی حصے پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں، جو شیر، تیندوے اور چیتے کی نسلوں کے لیے موزوں قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ حال ہی میں شیپور کے کونو نیشنل پارک میں چیتا پروجیکٹ کے تحت ایک اور تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ہندوستانی سرزمین پر پیدا ہونے والی 32 ماہ کی مادہ چیتا کے جے پی-21 نے پانچ صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔ ان میں بوٹسوانا سے لائے گئے نر چیتے کی نسل بھی شامل ہے۔ چیتوں کی اس نئی نسل کی پیدائش کے ساتھ ہی ہندوستان میں ان کی مجموعی تعداد بڑھ کر 60 ہوگئی ہے، جن میں 41 چیتے ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ کونو نیشنل پارک اور گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری کے بعد اب ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو(نورادےہی) کو بھی چیتوں کے تیسرے مسکن کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں چیتوں کو قدرتی ماحول میں آزاد چھوڑے جانے سے اس اہم منصوبے کو مزید وسعت مل رہی ہے۔
چیتوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش ملک کی ’ٹائیگر اسٹیٹ‘ کے طور پر بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ سال 2022 کی شیروں کی گنتی کے مطابق ملک میں موجود مجموعی 3,682 شیروں میں سے 785 شیر صرف مدھیہ پردیش میں پائے گئے تھے۔ ریاست میں شیروں کی تعداد میں اضافے کی رفتار قومی اوسط کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔
شیروں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے محکمہ جنگلات جدید ٹیکنالوجی، حقیقی وقت میں نگرانی، فیلڈ انٹیلی جنس نیٹ ورک اور سخت قانونی ضابطوں کا استعمال کر رہا ہے۔اس کے علاوہ ریاستی حکومت آبی حیات کے تحفظ کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ کونو ندی میں نایاب نسل کے 53 گھڑیال اور 25 کچھوؤں کو چھوڑا گیا ہے۔ یہ آبی حیاتیاتی تنوع اور دریاؤں کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔باندھو گڑھ، سنجے دوبری اور شہڈول کے بان ساگر بیک واٹر علاقوں میں جنگلی ہاتھیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مدھیہ پردیش کے جنگلات جنگلی حیات کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہاتھیوں کی مجموعی تعداد 97 بتائی گئی ہے۔تقریباً ایک صدی بعد مدھیہ پردیش کے جنگلات میں ہاتھیوں کی واپسی کو جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ شہڈول شمالی جنگلاتی ڈویژن کی ڈویژنل فاریسٹ آفیسر ترونا ورما نے بتایا کہ مغربی بیوہاری علاقے میں تقریباً 25 ہاتھیوں کا ایک جھنڈ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مقیم ہے۔انہوں نے کہا کہ بان ساگر کے بیک واٹر علاقے میں پانی کی وافر دستیابی، انسانی آبادیوں کی کم تعداد اور بانس کے جنگلات میں خوراک کی موجودگی کے باعث یہ علاقہ ہاتھیوں کے لیے موزوں ثابت ہو رہا ہے۔
پرندوں کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ریاست میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ وسطی ہندوستان کے گدھوں کے قدرتی مسکن کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بھوپال کے تحفظاتی مرکز سے نایاب نسل کے پانچ گدھوں کو ان کے قدرتی مسکن میں آزاد چھوڑا گیا ہے۔ ان گدھوں پر انتہائی درست مقام کی نشاندہی کرنے والے جی پی ایس-جی ایس ایم سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے گی۔’وَلچر ایسٹیمیشن 2026‘ کے دوران پنا جنگلاتی ڈویژن میں ایک ہزار سے زیادہ گدھوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔اسی طرح تقریباً 100 سال کے وقفے کے بعد آسام کے کازی رنگا نیشنل پارک سے لائی گئی جنگلی بھینسوں کو بال??اٹ کے سوپکھار علاقے میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے گھاس کے میدانوں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو مزید تقویت ملے گی۔مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ کونو نیشنل پارک اور گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری کے بعد اب نورادےہی ٹائیگر ریزرو میں بھی چیتوں کو نیا مسکن فراہم کیا گیا ہے۔ بندیل کھنڈ میں واقع ویرانگنا درگاوتی سینکچری ریاست کا تیسرا مقام بن گیا ہے، جہاں چیتے اپنے لیے موزوں قدرتی ماحول میں آزادانہ طور پر گھوم سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت جنگلات اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں آبی، زمینی اور فضائی حیات سے تعلق رکھنے والے مختلف جانداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Related Articles