ملکارجن کھڑگے نے سی ڈبلیو سی کا اجلاس بلایا، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ
نئی دہلی، 28 ستمبر۔ الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو لے کر جاری تنازع کے درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے ساتھ پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔ملکارجن کھڑگے نے پیر کو صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس اس معاملے پر سنجیدگی سے جدوجہد کرے گی اور سی ڈبلیو سی کے تمام ارکان اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ سے متعلق ہے۔ کانگریس اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھا رہی ہے اور سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔کانگریس صدر نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کمیشن کے کام کاج پر اس سے وابستہ افراد کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کے اس دعوے کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ 2016 میں اُس وقت کے آئی اے ایس افسر گیانیش کمار نے انہیں 2019 کا لوک سبھا انتخابات بی جے پی کے ٹکٹ پر لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ تھامسن کے مطابق انہوں نے اس مشورے کو قبول نہیں کیا تھا۔کھڑگے نے اس دعوے کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی غیر جانب داری پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی افسر نے سرکاری ملازمت کے دوران کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخابات لڑنے کا مشورہ دیا تھا تو یہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری سے متعلق ایک اہم سوال ہے۔کانگریس صدر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ استعفیٰ دینے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔دراصل، ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی(ایس آئی آر) کو لے کر الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر اپوزیشن کے سوالات کے درمیان یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی آزادی، غیر جانب داری اور ادارہ جاتی جواب دہی سے متعلق سوالات پر سنجیدہ بحث ضروری ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلوں اور ایس آئی آر کے طریقہ کار سے متعلق مختلف وضاحتیں پیش کی ہیں۔




