ایس آئی آر کو غیر مؤثر کرتے ہوئے نئی مہم شروع کی، دہلی میں پُرامن احتجاج کریں گے: اکھلیش یادو

لکھنؤ، سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو غیر مؤثر کرکے اب ایک نئی مہم شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف دہلی میں پُرامن طریقے سے احتجاج کرے گا اور گاندھی وادی ہونے کے ناطے قانون شکنی نہیں کی جائے گی۔اکھلیش یادو پیر کو راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر واقع ڈاکٹر رام منوہر لوہیا پارک میں لوہیا کے مجسمے پر گلہائے عقیدت پیش کرنے پہنچے تھے۔ اس دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعظم گڑھ کی ایک اسمبلی حلقے کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں وکاس یادو نام کے 10 ووٹر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایک ووٹ وکاس یادو ڈالے گا، باقی نو بی جے پی ڈالے گی۔‘‘ تاہم، اس الزام کی حمایت میں انہوں نے موقع پر کوئی تفصیلی معلومات پیش نہیں کیں۔ایس پی صدر نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کو لے کر کافی کوششیں کی گئیں اور عوام کا پیسہ خرچ ہوا، لیکن اب اسے غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پوری کارروائی کو اس طرح تبدیل کردیا گیا کہ لوگوں کو اس کی اطلاع تک نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مبینہ ’’چار سو بیسی‘‘ کو 403 اسمبلی نشستوں پر چلنے نہیں دیا جائے گا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ ملک میں بی جے پی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اتر پردیش میں اگلا انتخاب ہونے پر سماج وادی پارٹی کی حکومت بنے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پسماندہ، دلت اور اقلیتی (پی ڈی اے) طبقہ پوری طرح بیدار ہے۔ ایس پی صدر نے کہا کہ جو لوگ مظلوم ہیں، وہ پی ڈی اے اور سماج وادی نظریے کے ساتھ ہیں۔انڈیا اتحاد کے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہلی میں پُرامن طریقے سے مظاہرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے دہرایا کہ وہ گاندھی وادی ہیں اور احتجاج کریں گے، لیکن قانون نہیں توڑیں گے۔ایس پی صدر نے کہا کہ پارٹی کے رہنما اور کارکن مل کر ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور نیتا جی ملائم سنگھ یادو کے ادھورے کاموں کو مکمل کریں گے۔ اس موقع پر ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری شیوپال سنگھ یادو، پارٹی ترجمان راجندر چودھری سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔

Related Articles