شیوراج کا اپوزیشن پر حملہ، کہا: جمہوریت کے تئیں فکرمندی نہیں، شکست کی جھنجھلاہٹ ہے

نئی دہلی، مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود شیوراج سنگھ چوہان نے انتخابی اصلاحات اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کے مطالبے پر اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور اپوزیشن جماعتوں کے مارچ پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن کو جمہوریت کی فکر نہیں بلکہ شکست کی جھنجھلاہٹ ہے اور وہ عوام کے فیصلے کی توہین کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چوہان نے منگل کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 19 سیاسی جماعتوں نے تقریباً تین کلومیٹر طویل مارچ نکالنے کے بعد ملک کو دوبارہ بیلٹ پیپر کے دور میں لے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کھڑگے کی جانب سے اٹھائے گئے تین مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، خصوصی نظرثانی (SIR) کو منسوخ کرنا اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانا شامل ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل میں کی گئی اصلاحات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فرضی ووٹنگ روکنے کے لیے انتخابی نظام میں مسلسل تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ای وی ایم نے بوتھ لوٹنے جیسے واقعات پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ فوٹو ووٹر شناختی کارڈ اور ووٹر فہرستوں کی جانچ سے فرضی ووٹروں کی شناخت میں مدد ملی ہے۔

چوہان نے ایس آئی آر کو بھی اسی انتخابی اصلاحات کے عمل کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر فہرست سے فوت ہوچکے، دوہرے اندراج والے اور دوسری جگہ منتقل ہوچکے ووٹروں کے نام ہٹانا ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹر فہرست کو درست کرنے کے عمل کی ہی مخالفت کی جائے گی تو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے میں کس طرح مدد ملے گی۔
مرکزی وزیر نے بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کے مطالبے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے اتر پردیش اور بہار میں 1980 اور 1990 کی دہائی کے دوران انتخابات میں بوتھ لوٹنے اور فرضی ووٹنگ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن انتخابی عمل میں کی گئی اصلاحات کو پیچھے لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Related Articles