وزیر اعظم نریندر مودی باپو کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کر رہے ہیں : یوگی آدتیہ ناتھ

- وزیر اعلیٰ نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نذر کئے

لکھنو، ۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 157 ویں جینتی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ نے جی پی او میں واقع بابائے قوم کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نذر کیے۔ اس موقع پر اسکول کے بچوں نے ’رگھوپتی راگھو راجا رام‘، ’وہ شکتی ہمیں دو دیاندھے‘، اور ’وشنوجن تو تینے کہیے‘ وغیرہ بھجنوں/ گیتوں پر موسیقی سے آراستہ پیش کش کی۔ وزیر اعلیٰ نے بھجن سنے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باپو نے جو خواب دیکھا تھا، نیا ہندوستان آج اسی خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے پوری وابستگی سے لگا ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یومِ پیدائش پر ریاست کے عوام کو ’بین الاقوامی یومِ عدم تشدد‘ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سچائی اور عدم تشدد کی راہ پر چل کر پوری دنیا کو سودیشی اور عدم تشدد کے ذریعے آزادی کا پیغام دینے والے بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کی مقدس جینتی پر کروڑوں بار سلام۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باپو کے نظریات، سادگی اور افکار آج بھی ہم سب کو خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں مسلسل رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے جمہوری اور پُرامن طریقے سے تحریک کی قیادت کر کے اسے عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کا کام کیا۔ تحریک کو عوامی تحریک بنانے کے سلسلے میں ان کے رہنما اصول آج بھی کارآمد ہیں۔
ہر شہری سودیشی، صفائی اور خود انحصاری کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنائے، اس کے لیے باپو کے اس وقت کے وچن آج بھی ایک منتر کی طرح کام کر رہے ہیں۔ جس ملک میں مایوسی اور ناامیدی تھی، باپو کی رہنمائی میں وہی ناامیدی اور مایوسی سے نکل کر ہندوستانی معاشرہ جوش و خروش کے ساتھ تحریک کا حصہ بن گیا۔
یہ چند شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر گاوں پہنچا، اور ہر مرد، عورت اور بچہ اس مہم کا حصہ بنے۔ باپو نے آزادی کے روپ میں جو عہد لیا تھا، آج اسی خواب کو آزاد ہندوستان میں وزیر اعظم مودی نے سوچھ بھارت ابھیان کے ذریعے نافذ کیا۔ یہ سوچھ بھارت سوستھ بھارت کا سنگِ بنیاد بنا۔ ساتھ ہی خواتین کے وقار کا درس بھی دیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ ہم گاندھی آشرم کے کپڑوں کو بچپن میں بڑے تجسس سے دیکھتے تھے۔ یہ چرخہ محض چرخہ نہیں بلکہ بھارت کی خود انحصاری اور خود کفالت کی بنیاد ہے۔ گرام سوراج کا جو تصور باپو نے پیش کیا تھا، اس کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے تھے، حقیقت کیا تھی کہ ہم نے گاوں کو نظر انداز کر رکھا تھا۔ آج باپو کے خواب کو پورا کرتے ہوئے گاوں بھی خود انحصاری کا مرکز بنے گا، اس کے لیے حکومت نے ہر گاوں میں گرام سکریٹریٹ قائم کیا ہے۔ گرام سکریٹریٹ کے توسط سے چار سے سات افراد کو گاوں میں ہی روزگار کی سہولت دستیاب ہو رہی ہے۔ یوگی نے کہا کہ جو معاشرہ اپنے اسلاف کا احترام کرے گا اور ان کا احسان مند رہے گا اور آنے والی نسلوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا، اس کا مستقبل یقیناً تابناک ہوگا۔ نیا ہندوستان آج اسی خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے پوری لگن کے ساتھ مصروفِ عمل ہے۔
گلہائے عقیدت نذر کرنے کے پروگرام میں نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، کابینہ وزیر راکیش سچان، راجیہ سبھا ممبر برج لال، میئر سشما کھڑکوال، اراکین قانون ساز کونسل ڈاکٹر مہیندر سنگھ، مکیش شرما، لال جی پرساد نرمل، رام چندر پردھان، پون سنگھ چوہان، ڈاکٹر نیرج بورا، راجیشور سنگھ، جے دیوی، امریش کمار، ریاستی کمیشن برائے خواتین کی نائب صدر اپرنا یادو، بی جے پی کے میٹروپولیٹن صدر آنند دویدی وغیرہ موجود رہے۔

Related Articles