پیوش گوئل نے جی 20 تجارتی وزرائے کی میٹنگ میں جبری مزدوری کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا
نئی دہلی، ۔ مرکزی
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے امریکہ کے شہر ملواکی میں منعقدہ جی 20 تجارتی وزرائے کی میٹنگ میں عالمی سپلائی چین سے جبری مزدوری کے خاتمے کے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شواہد پر مبنی تجارتی اقدامات کی وکالت کرتے ہوئے پیداواری صلاحیت میں ساختی اضافے، انتہائی پسندیدہ ملک (ایم ایف این) کے اصول کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے اور عالمی تجارت سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات پیش کیے۔
پیوش گوئل نے ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں منعقدہ جی 20 تجارتی وزرائے کی میٹنگ کے اختتامی دن شرکت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کے جن شعبوں کی پیداواری صلاحیت پر تشویش ظاہر کی گئی ہے، وہاں مینوفیکچرنگ کی صلاحیت ملک کی 140 کروڑ آبادی کی وسیع گھریلو ضروریات اور عالمی منڈیوں کی حقیقی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ جی 20 کی صدارت کی جانب سے نشان زد کیے گئے شعبوں میں ہندوستان کو ساختی طور پر ضرورت سے زیادہ مینوفیکچرنگ صلاحیت کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ملک کی پیداواری صلاحیت گھریلو اور عالمی، دونوں سطحوں پر ضروریات پوری کرتی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان کئی رکن ممالک کی اس تشویش سے اتفاق کرتا ہے کہ بعض معیشتوں میں تجارت کو متاثر کرنے والی سرکاری معاونت ڈمپنگ اور غیر منصفانہ قیمتوں کے تعین کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تشویشوں کا حل عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ضوابط کے مطابق اقدامات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان میں شواہد پر مبنی اور عدالتی نظرثانی کے دائرے میں آنے والی اینٹی ڈمپنگ اور کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹی جیسے اقدامات شامل ہیں۔پیوش گوئل نے 2027 میں جی 20 کی صدارت کے لیے برطانیہ کو ہندوستان کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔
میٹنگ کے دوران پیوش گوئل نے آسٹریلیا کے وزیر تجارت و سیاحت، سعودی عرب کے وزیر تجارت، فرانس کے وزیر برائے خارجہ تجارت و اقتصادی کشش، جمہوریہ کوریا کے وزیر تجارت اور کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔




