بڑھتی جارہی ہے چیف الیکشن کمشنر کی گرفتاری اور استعفیٰ کی مانگ
آئسا کارکنان نے احتجاجی مارچ نکال کر پتلا نذر آتش کیا،ر زبردست نعرے بازی کی
سہرسہ، شہر کے کچہری چوک پر آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کے آل انڈیا احتجاج کی کال پر ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور مالے کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، نیہا، یوگیندر یادو سمیت دیگر سیاسی کارکنان کی گرفتاری کے خلاف آئیسا کارکنوں نے احتجاجی مارچ نکال کر وزیر اعظم نریندر مودی اور گیانیش کمار کا پتلا نذرِ آتش کیا اور زبردست نعرے بازی کی۔
احتجاجی مارچ اور پتلا جلانے کے پروگرام کی قیادت آئسا کے ضلع صدر آشیش آنند نے کی۔ خطاب کرتے ہوئے آر وائی اے کے قومی کونسل رکن کندن یادو نے کہا کہ دی انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ کے بعد انتخابی عمل اور ووٹر لسٹ میں سدھار کے نام پر جاری ایس آئی آر عمل کے تئیں جمہوری اور شہری حقوق سے متعلق سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انتخابی عمل میں گڑبڑی کے انکشاف کے بعد گیانیش کمار کو گرفتار کرنے کے بجائے دہلی میں جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کر رہے دیپانکر بھٹاچاریہ، نیہا، یوگیندر یادو سمیت سینکڑوں افراد کی گرفتاری یہ ثابت کرتی ہے کہ جمہوری حقوق اور حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی آواز کو پولیس کارروائی کے ذریعے دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
آئیسا ضلع صدر آشیش آنند نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے برطرف کرنے، ایس آئی آر کو فوری طور پر معطل کرنے، ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے تمام ناموں کی بحالی، الیکشن کمیشن کے آزادانہ اور جمہوری طریقہ کار کی بحالی، الیکشن کمشنروں کی تقرری کے موجودہ نظام کو منسوخ کرنے، الیکشن کمشنروں کی تقرری کرنے والی کمیٹی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو شامل کرنے اور ایس آئی آر کے بعد منعقد ہونے والے بہار انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر آر وائی اے لیڈر ساگر کمار شرما، رتوراج کمار، جیوتیش کمار، ستیم کمار، اوم پرکاش کمار، نتیش کمار، محمد مشتاق، وپن کمار، پپو کمار، منٹو یادو، ببلو کمار اور چندن یادو سمیت درجنوں کارکنان موجود تھے۔




