دورہ پاکستان سے انکار پر انگلش کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے معافی مانگ لی

لندن،ستمبر۔انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین آئن واٹمور نے دورہ پاکستان سے انکار پر پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ سال دورہ پاکستان کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لانے کا وعدہ کیا ہے۔واضح رہے کہ رواں ماہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پاکستان آنے کے بعد سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر دورہ پاکستان منسوخ کردیا تھا اور نیوزی لینڈ کے انکار کے چند دن بعد انگلینڈ نے بھی اپنی مرد و خواتین کی ٹیموں کو پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔کرک انفو کے مطابق ڈیلی ٹیلی گراف کو اپنے انٹرویو میں واٹمور نے کہا کہ دورے سے انکار کی ایک وجہ سیکیورٹی تھی لیکن کھلاڑیوں کی فلاح کو بنیادی اہمیت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے خصوصاً پاکستان میں جن لوگوں کو تکلیف پہنچی، میں ان سب سے معافی چاہتا ہوں اور بورڈ نے جو فیصلہ کیا، وہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا لیکن ہمیں سیکیورٹی اور کھلاڑیوں کی فلاح کے حوالے سے سفارشات موصول ہوئی تھیں اور یہی وجہ تھی کہ ہم نے یہ فیصلہ لیا۔انگلش بورڈ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں ورلڈ کپ میں کم وقت اور نیوزی لینڈ کی پاکستان سے واپسی کے پیش نطر جلد ہی کوئی فیصلہ لینا تھا، اس سلسلے میں کئی چیزوں کو مدنظر رکھا گیا لیکن کھلاڑیوں کی فلاح سب سے اہم چیز تھی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم 2005 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کررہی تھی جبکہ انگلش خواتین ٹیم نے آج تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور یہ ان کا پہلا دورہ پاکستان تھا جو منسوخ ہو گیا۔فیصلے کی منسوخی پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انگلینڈ سے وجوہات بتانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ خود انگلش صحافیوں اور سابق کرکٹرز نے اس دورے کو منسوخ کرنے پر اپنے بورڈ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی دورہ پاکستان کے لیے مرد و خواتین ٹیموں کو بھیجنے سے انکار پر انگلش کرکٹ بورڈ پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔دی ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انگلش بورڈ دورہ پاکستان جاری رکھنے کے لیے کوئی راہ تلاش کرنے کا خواہشمند تھا لیکن ٹیم انگلینڈ پلیئرز پارٹنرشپ نے مداخلت کردی جس سے دورہ نہیں ہوسکا، یہ پارٹرنرشپ دراصل پلیئرز یونین کے درمیان ایک یونٹ ہے جو انگلینڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔البتہ بعد میں انگلینڈ کی پلیئرز ایسوسی ایشن نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیم کے آئندہ ماہ دورہ پاکستان سے دستبرداری کے فیصلے سے انگلش کرکٹرز کا کوئی تعلق نہیں۔واٹمور نے تصدیق کی کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کا نہیں تھا اور اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر مشاورت بھی نہیں کی گئی تھی، بورڈ نے یہ فیصلہ خود کیا تھا، اگر ہم دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے تو ہمیں کھلاڑیوں کی نمائندہ باڈی اور پروفیشنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے سامنے سفارشات رکھنی پڑتیں لیکن معاملہ اس سطح تک نہیں پہنچا تھا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں افغانستان سے امریکا سمیت غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے یہ دورہ متاثر ہوا، یہ دورے کے لیے درست وقت نہیں تھا لیکن 2022 کے دورے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس کافی وقت ہے۔آئن واٹمور نے کہا کہ ہمیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور ہماری توجہ 2022 میں وہاں جانے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ ہ گزشتہ سال پاکستان کے دورہ انگلینڈ پر ان کے بہت مشکور ہیں اور آئندہ سال اپنی ٹیم کا دورہ پاکستان ممکن بنانے کی تمام تر کوششیں کریں گے۔دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے بیان کو پاکستان کی کامیابی قرار دیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ کی معذرت اور پاکستان کے دورے کا اعلان ہمارے مؤقف کی بڑی کامیابی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں، سفارت کاروں، انٹرنیشنل میڈیا اور ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس معاملے پر پاکستان کا ساتھ دیا اور پاکستان کرکٹ کے خلاف ایک اور سازش ناکام ہوئی۔

 

Related Articles