بائیڈن شاہ سلمان اور ولی عہد کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں: وائٹ ہاؤس

واشنگٹن،جون ۔ سعودی عرب کی طرف سے امریکی صدر کو دورہ ریاض کی دعوت اور اس دورے کی تاریخ کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس غیرمعمولی دورے کی اہمیت پر’العربیہ اور الحدث‘ چینلوں سے بات کی ہے۔وائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کوآرڈینیٹر جان کربی نے کہا کہ صدر جو بائیڈن شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں۔ ان کی ٹیم نے دوطرفہ تعلقات کے فریم ورک میں اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ہمارا 80 سال سے زیادہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔اْنہوں نے منگل کو مزید کہا کہ سعودی عرب یمن کو مستحکم کرنے میں ایک اہم اسٹریٹجک کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے اورایران کے عدم استحکام کے رویے کے ساتھ ساتھ توانائی اور عالمی معیشت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے تعاون کونسل، مصر، اردن اور عراق کے رہ نماؤں کے ساتھ سربراہ اجلاس کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئیکہا کہ سعودی عرب ایک بڑا شراکت دار ہے اور اس نے خطے میں سلامتی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب حوثیوں کے سینکڑوں ڈرون حملوں کا نشانہ بنا، یہی وجہ ہے کہ ہم سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پر مسلسل کام کرتے رہیں گے۔منگل کو سعودی شاہی دربار نے اعلان کیا کہ امریکی صدر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر 15 اور 16 جولائی کو مملکت کا دورہ کریں گے۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق جوبائیڈن شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ بائیڈن شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات کریں گے اور وہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس سعودی عرب کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس دورے کی تیاری اعلیٰ سطح پر اور کئی مہینوں تک امریکی انتظامیہ کے سینیر حکام اور سفارت کاروں نے کی تھی۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن جین پیئر نے کہا کہ امریکی صدر شاہ سلمان کی دعوت اور ان کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہیں۔ صدر اس اہم دورے اور آٹھ دہائیوں کے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر سعودی عرب کے کردار کے منتظر ہیں۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles