ہندوستان اور ویتنام نے دفاعی شراکت داری کے مشترکہ ویژن دستاویز پر دستخط کئے

نئی دہلی، جون ۔ ہندوستان اور ویتنام نے دفاعی شعبے میں تعاون کو بڑھانے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی شراکت داری کے مشترکہ وژن دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔دونوں ممالک نے باہمی لاجسٹک اسسٹنس پر مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کیے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ویتنام کے تین روزہ دورے پر منگل کو ہنوئی پہنچے جہاں انہوں نے ویتنام کے وزیر دفاع جنرل فان وان گیانگ کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ دونوں فریقین کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی اور عالمی مسائل کے لیے موثر اور عملی اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں وزرائے دفاع نے موجودہ دفاعی تعاون کے دائرہ کار اور سطح کو کافی حد تک بڑھانے کے لیے ‘2030 کے لیے ہندوستان-ویتنام دفاعی شراکت داری پر مشترکہ وژن بیان’ پر بھی دستخط کیے ہیں۔دونوں وزراء کی موجودگی میں باہمی لاجسٹک اسسٹنس پر ایک مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے گئے۔ یہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی طور پر فائدہ مند لاجسٹک امداد کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ ویتنام نے اس سے پہلے کسی دوسرے ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کیا۔دونوں وزراء نے ویتنام کے لیے 5 ملین امریکی ڈالر کی دفاعی لائن کو تیزی سے حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا۔ ان پروجیکٹوں کے نفاذ سے ویتنام کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ‘میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ’ کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن کو آگے بڑھایا جاسکے گا۔وزیر دفاع نے ویتنام کی مسلح افواج کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ایئر فورس آفیسرز ٹریننگ اسکول میں لینگویج اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی لیبارٹری کے قیام کے لیے دو سمیلیٹر اور مالی گرانٹس کا بھی اعلان کیا۔قبل ازیں، وزیر دفاع نے اپنے سرکاری دورے کا آغاز ہنوئی میں آنجہانی صدر ہو چی منہ کی سمادھی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بدھ مت کے مقدس مندر ٹران کوک پگوڈا کا بھی دورہ کیا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانی تہذیب اور عوام کے درمیان تعلقات کی نشانی ہے۔ہندوستان اور ویتنام کے درمیان 2016 سے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے اور دفاعی تعاون اس شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ ویتنام ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور انڈو پیسیفک ویژن میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2,000 سال سے زیادہ محیط تہذیبی اور ثقافتی تعلقات کی ایک بھرپور مشترکہ تاریخ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ رابطوں کی ایک وسیع رینج بشمول دفاعی پالیسی ڈائیلاگ، فوجی تبادلے، اعلیٰ سطح کے دورے، صلاحیت سازی اور تربیتی پروگرام، اقوام متحدہ کے قیام امن میں تعاون، بحری جہازوں کے دورے اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ مشقوں کی وجہ سے دفاعی تعلقات میں وسعت آئی ہے۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles